بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذی الحجہ کےدس دنوں میں عمرہ کرنےکاحکم

سوال

کیا میں ذوالحج کے 10 دن میں عمرہ کر سکتا ہوں جب کہ میں سعودی عرب میں حج کی ڈیوٹی پر موجود ہوں؟

جواب

یومِ عرفہ یعنی 9 ذی الحجہ سےلےکر13 ذی الحجہ تک اِن پانچ دنوں میں عمرہ نہیں کرسکتے،ان کےعلاوہ پورےسال میں کسی بھی وقت عمرہ کرسکتےہیں۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"(وتكره يوم عرفة ويوم النحر وأيام التشريق) لما روي عن ابن عباس لا تعتمر في خمسة أيام واعتمر فيما قبلها وبعدها وعن عائشة  - رضي الله عنها - أنها قالت: حلت العمرة في السنة كلها إلا أربعة أيام يوم عرفة ويوم النحر ويومان بعده رواه الهروي ولأن هذه أيام الحج فتعينت له، وفي قوله تعالى {يوم الحج الأكبر} [التوبة: 3] إشارة إليه؛ لأن الإضافة تفيد التخصيص فيكون الحج الأكبر أخص به من الحج الأصغر، وهو العمرة يعني بيوم النحر."

(كتاب الحج،82/2،ط:المطبعة الكبرى الأميرية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102850
تاریخ19-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں