بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عرشمان نام رکھنے کاحکم

سوال

 میرے گھر بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے اور ہم سب اس کا نام عرشمان رکھنے کا سوچ رہے تھے تو اس سلسلے میں آپ کا فتوی  دیکھا،  برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں اور اچھا سا نام بھی تجویز کر دیں۔

جواب

 عرشمان  میں عرش الگ اور  مان الگ لفظ ہے ،عرش: عربی ، اردو اور فارسی میں بھی مستعمل ہے، اس کے معنی : چھت، تخت، آسمان، آٹھواں آسمان وغیرہ کے آتے ہیں۔

مان : سنسکرت اور اردو  زبان کا لفظ ہے، اس کے معنی   : گھمنڈ، غرور، تکبر ، نخوت (2) عزت ، قدر، منزلت  (3) خاطر تواضع، آؤ بھگت کے آتے ہیں۔ 

لہذا مذکورہ نام کے بجائے انبیاء علیھم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم اجمعین کے ناموں سے کوئی نام رکھ لیں ۔

اسلامی ناموں کے حوالے سے ہماری ویب سائٹ پر وزٹ کریں ۔

فیروز اللغات میں ہے :

"عرش:چھت،تخت ،۔۔۔۔۔مان: گھمنڈ،غرور وتکبر ،قدرومنزلت۔"

(فیروزاللغات اردوجدید،610/480،فیروز سنز) 

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102835
تاریخ19-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں