بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چودہ لاکھ مالیت کے پلاٹ کے مقروض مالک پر قربانی کرنے کا حکم

سوال

ایک شخص نے چودہ(14) لاکھ کا غیر رہائشی پلاٹ خریدا ، نو (9)  لاکھ ادا کر دیا ، باقی قرض ہے کیا اس شخص پر قربانی فرض ہے۔

جواب

 صورتِِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص کے پاس چودہ لاکھ کا غیررہائشی پلاٹ ہے،  اس کی  موجودہ مالیت سے اگر واجب الاداء قرضہ نکالنے کےبعد  ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر  مال بچ جائےتو اس شخص پر قربانی واجب ہو گی اور اگر قرضہ ادا کرنے کے بعد نصاب کے بقدر مال نہیں بچتا تو ایسی صورت میں قربانی لازم نہیں ہو گی۔

فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها، فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره، وإن كان له عقار ومستغلات ملك اختلف المشايخ المتأخرون - رحمهم الله تعالى - فالزعفراني والفقيه علي الرازي اعتبرا قيمتها، وأبو علي الدقاق وغيره اعتبروا الدخل، واختلفوا فيما بينهم قال أبو علي الدقاق إن كان يدخل له من ذلك قوت سنة فعليه الأضحية، ومنهم من قال: قوت شهر، ومتى فضل من ذلك قدر مائتي درهم فصاعدا فعليه الأضحية، وإن كان العقار وقفا عليه ينظر إن كان قد وجب له في أيام الأضحى قدر مائتي درهم فصاعدا فعليه الأضحية وإلا فلا، كذا في الظهيرية. ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب".

(كتاب الأضحية ، الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها، ج:5، ص:292، ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102831
تاریخ19-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں