بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بہن کی سگی بہن سے نکاح کا حکم

سوال

١ - رضیہ ٢- سکینہ ،رضیہ نے سکینہ کی صرف پہلی بیٹی کو دودھ پلایا ، لہذا سکینہ کی پہلی بیٹی رضیہ کے تمام بچوں کی رضاعی بہن ہوئی ،اب رضیہ کا بیٹا سکینہ کی تیسری بیٹی سے نکاح چاہتا ہے، کیا یہ جائز ہے ؟ خاندان والے کہہ رہے ہیں  کہ یہ ناجائز ہے۔   برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں!

جواب

سکینہ کی جس بیٹی نے رضیہ کا دودھ نہیں پیا ہے ،اس کا رضیہ اور رضیہ کی اولاد سے رضاعت کا رشتہ نہیں ہے ،رضیہ کا بیٹا سکینہ کی اس بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر."

(فتاوی شامی ،باب الرضاع،ج:۳،ص:۲۱۷،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102828
تاریخ19-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں