بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حقیقی بھتیجے کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا

سوال

ایک عورت ہے اس نے میرے بھتیجے  کو دودھ پلایا تھا،تو کیا  میں اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہوں؟

جواب

جس عورت نے آپ کے بھتیجے کو دودھ پلایا ہے ،تو اس کی بیٹی  یعنی آپ کے بھتیجے کی رضاعی بہن سے آپ کا کوئی رشتہ نہیں ہے ،نہ نسب کا نہ رضاعت کا ،لہذا اس عورت کی بیٹی سے آپ کا نکاح جائز ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

وَاُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسَافِحِيْنَ۔۔۔۔الخ(سورة النساء،24)

فتاوی شامی میں ہے:

"(هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) ‌أي ‌حل ‌استمتاع ‌الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي فخرج الذكر والخنثى المشكل والوثنية لجواز ذكورته.

وفي الرد:(قوله: أي حل استمتاع الرجل) أي المراد أنه عقد يفيد حكمه بحسب الوضع الشرعي. وفي البدائع أن من أحكامه ملك المتعة وهو اختصاص الزوج بمنافع بضعها وسائر أعضائها استمتاعا أو ملك الذات والنفس في حق التمتع على اختلاف مشايخنا في ذلك."

(كتاب النكاح، ج:3، ص:4، ط:سعید)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

‌"يتصور ‌التحريم من الجانبين، وحاصله أن المانع من النكاح خمسة أوجه، النسب والسبب والجمع وحق الغير والدين."

(كتاب النكاح، ج:2،ص:4، ط:المطبعة الخيرية)

فتاوی مفتی محمود میں ہے:

"سوال:کوئی شخص اپنے بھتیجے کی رضاعی بہن سے نکاح کرسکتاہے یا نہیں؟

جواب:اس شخص کے بھتیجے کی رضاعی بہن اگر ایسی صورت میں بھتیجے کی رضاعی بہن بن جاتی ہے کہ اس لڑکی نے آکر لڑکے کی ماں کا دودھ پیا ہے تو ظاہر ہے یہ لڑکی اس شخص کی رضاعی بھتیجی ہوئی تو ناجائز ہے ،اور اگر لڑکے نے جاکر کہیں دوسری عورت کا دودھ دونوں نے اکھٹے پیا ،تو جائز ہے۔"

(باب الرضاعت، ج:5، ص:439، ط:جمعیت پبلیکیشنز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102805
تاریخ19-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں