بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت میں کیے گئے نکاح کا حکم

سوال

ایک عورت نے اپنے شوہر سے طلاق لی،  پھر دوسرے شوہر سے عدت گزارے بغیر نکاح کرلیا تو نکاح صحیح ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عدّت کے دوران کیا ہوا نکاح شرعی طور پر جائز نہیں ہے، اور ایسا کیا ہوا نکاح از رُوئے شرع سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا۔

فتاویٰ شامی (حاشية ابن عابدين) میں ہے:

"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا".

(کتاب النکاح، باب العدّۃ،مطلب عدة المنكوحة فاسدا والموطوءة بشبهة ، ج:3، ص:516، ط:سعید)

وفيه ايضاّ:

"أما منكوحة الغير فهي غير محل إذ لا يمكن اجتماع ملكين في آن واحد على شيء واحد، فالعقد لم يؤثر ملكا فاسدا."

(كتاب الطلاق ،مطلب عدة المنكوحة فاسدا والموطوءة بشبهة، باب العدة، جلد 3 ص: 517، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102674
تاریخ17-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں