بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کی کھال کاحکم

سوال

قربانی کے چمڑے کا کیا حکم ہے؟

جواب

قربانی کے جانور کی کھال جب تک  فروخت نہ کی جائے قربانی کرنے والے کو اس میں تین طرح کے اختیارات حاصل ہیں:

1۔یاقربانی کرنے والا خود اس کھال کو اپنے استعمال میں لائے۔

2۔یا کسی کو ہدیہ کے طور پر دے دے۔

3۔یا فقراء اور مساکین پر صدقہ کردے۔

تاہم اگر قربانی کی کھال نقد رقم یا کسی چیز کے عوض خود یا وکیل کے ذریعہ فروخت کردی گئی تو اس کی قیمت  صدقہ کرنا واجب ہے، اور کھال کی قیمت کا مصرف وہی ہے جو زکوۃ کا مصرف ہے۔

 فتاوی شامی  میں ہے:

'' (ويتصدق بجلدها أو يعمل منه نحو غربال وجراب) وقربة وسفرة ودلو، (أو يبدله بما ينتفع به باقياً) كما مر، (لا بمستهلك كخل ولحم ونحوه) كدراهم، (فإن) (بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم) (تصدق بثمنه)''.

( کتاب الأضحیة،328/6، سعید)

وفي الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة:

'' وله أن یبیعها بالدراهم؛ لیتصدق بها لا أن ینتفع بالدراهم أو ینفقها علی نفسه ، فإن باع لذالك تصدق بالثمن''. 

( کتاب الأضحیة،294/6، رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102666
تاریخ17-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں