بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک کپورے والے جانور کی قربانی کا حکم

سوال

میں نے ایک بیل کاسودا کیا ہے اور  مجھے بیوپاری نے بتایا کہ اس کا ایک کپورا ہے پیدائشی اور وہ جفتی بھی کر سکتا ہے بچہ بھی پیدا کر سکتا ہے بظاہر کوئی نقص نہیں ہےتو اس بیل کی قربانی جائز ہوگی یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ جس جانور کا پیدائشی ایک خصیہ (کپورا) یا دونوں  نہ ہوں ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويجوز المجبوب العاجز عن الجماع، والتي بها السعال".

( كتاب الأضحية، الْبَاب الخامس في بيان محل قامةالواجب، ۵ / ۲۹۷، ط: دار الفكر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

’’سوال : ایک فوطہ والے جانور کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

جواب : اس کی بھی قربانی درست ہے‘‘۔

(۱۷ / ۳۵۳، دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102662
تاریخ16-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں