بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دانتوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے قربانی کا حکم

سوال

اگر گائے کی عمر بیچنے والے کے قول کے مطابق اڑھائی  سال ہے، لیکن اس کے دانت زیادہ ہیں، اس صورت میں قربانی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

گائے کی قربانی درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی عمر کم از کم دو سال ہو، اگر بیچنے والا گائے کی عمر ڈھائی سال بتارہا ہے اور دانت بھی دو سے زیادہ آئے ہیں تو اس کی قربانی درست ہے، واضح رہے کہ دانتوں کو عمر معلوم کرنے کے لیے علامت کے طور پر  سمجھا جاتا ہے، اگر دودھ کے دانت کے علاوہ دو دانت سے زیادہ  دانت  نکلیں تو یہ دو سال سے زیادہ عمر کی علامت ہے، اور اس جانور کی قربانی بالکل درست ہے۔

حاصل یہ ہے کہ  دانت اگر دو سے کم ہوں تو اس میں تفصیل ہے( یعنی اس کی عمرکے بارے میں تحقیق کی جائے گی ) لیکن اگر دو سے زیادہ ہو تو  چوں کہ عموماً  وہ جانور قربانی کی عمر کو پہنچ چکا ہوتاہے، اس لیے اس کی قربانی جائز ہوگی۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(وأما سنه) فلايجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس وإلا الجذع من الضأن خاصةً إذا كان عظيماً، وأما معاني هذه الأسماء فقد ذكر القدوري: أن الفقهاء قالوا: الجذع من الغنم ابن ستة أشهر، والثني ابن سنة۔ والجذع من البقر ابن سنة، والثني منه ابن سنتين. والجذع من الإبل ابن أربع سنين، والثني ابن خمس. وتقدير هذه الأسنان بما قلنا يمنع النقصان، ولايمنع الزيادة، حتى لو ضحى بأقل من ذلك شيئاً لايجوز، ولو ضحى بأكثر من ذلك شيئاً يجوز ويكون أفضل".  

(کتاب الاضحية،ج: 5 ،ص:295،ط : دارالفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102645
تاریخ16-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں