بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسطوں میں مہر ادا کرنا

سوال

 مجھے 3 مئی کو طلاق ہوئی میرا سابقہ شوہر  مہر دینے سے انکاری تو نہیں ہے مگر  مالی حالات کی وجہ سے دے نہیں پا رہا ان کا کہنا ہے کہ 3 اقساط میں دے دوں گا تو کیا یہ صحیح ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائلہ کا جتنا مہر مقرر ہوا تھا وہ سائلہ کے شوہر کے ذمہ لازم ہے  اور مہر سائلہ کا حق ہےلیکن اگر سائلہ کا شوہر مالی حالات کی وجہ سے یکمشت ادا نہیں کرسکتا تو سائلہ کی رضامندی سے تین قسطوں میں ادا کرنا جائز ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."

(کتاب النکاح , الفصل الثاني فیما یتأکد به المهر و المتعة جلد 1 ص: 303 , 304 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102591
تاریخ16-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں