بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا کرنٹ اکاؤنٹ میں زکوٰۃ لگتی ہے؟

سوال

کیا کرنٹ اکاؤنٹ میں زکوٰۃ لگتی ہے؟

جواب

اگر آپ کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ لازم ہوتی ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ  ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں موجود رقم اگر تنہا یا دیگرِ اموالِ زکوۃ کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے توسال گزرنے پر اس پر زکوۃ لازم ہو گی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة."

(کتاب الزکوۃ، الباب الثالث، الفصل الاول، جلد:1، صفحہ: 178، طبع: دار الفکر)

اور اگر سوال کا مطلب کچھ اور ہو تو اس کو وضاحت کے ساتھ لکھ کر دوبارہ ارسال کر دیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102574
تاریخ16-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں