بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس جانور کے سینگ کاٹ دیے گئے ہوں اس کی قربانی کا حکم

سوال

قربانی کے جانور کے سینگ اگر کاٹ دیئے ہوں تو قربانی کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں اگر قربانی کے جانور کے سینگ جڑ سے کاٹے نہ گئے ہوں تو  اس جانور کی قربانی شرعاً جائز ہے ، اور اگر جڑ سے کاٹا گیا ہے یا اکھاڑا گیا ہے تو اس جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ويجوز بالجماء التي لا قرن لها، وكذا مكسورة القرن، كذا في الكافي.وإن بلغ الكسر المشاش لا يجزيه، والمشاش رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين، كذا في البدائع."

(کتاب الاضحیۃ،ج:5،ص:297،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102509
تاریخ15-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں