بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان کی زمین پر مدرسہ بنانا

سوال

ہم نے زمین قبرستان کے لیے وقف کی تھی، اس پرچندقبریں بنالیں،پھر یہ زمین کم پڑگئی، ہم نے اس زمین کے بدلے دوسری زمین وقف کردی  جوکہ اس سے بڑی ہےاور قبرستان کے لیے وقف کرلی اور یہ پہلی والی زمین کو مدرسے کے لیے وقف کرلی توکیا اس زمین پر مدرسہ بناناجائزہے یانہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں پہلی زمین   جب قبرستان کے  لیے وقف    کردی گئی   تو وہ اب قبرستان ہی کے لیے وقف رہے گی  اور اس زمین کو اسی مصرف میں استعمال کرنا ضروری ہے ۔دوسری اور بڑی زمین قبرستان کے لیے وقف کرنےکی وجہ سے پہلی زمین پر مدرسہ بناناجائز نہیں ہے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية".

(کتاب الوقف،الباب الثانی فیما یجوز وقفہ ،ج:2،ص:362،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102508
تاریخ15-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں