بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن پاک کو غلطی سے پیر لگ جانے کا حکم

سوال

قرآن پاک  کو  غلطی سے پیر لگ جائے تو اس  کا کیا حکم  ہے؟   

جواب

اگر غلطی سے بلاقصد و ارادے کے قرآن  كريم   کو  پیر لگ جائےتو اس پر مؤاخذہ نہیں،  تاہم اس بے احتیاطی اور غفلت کی وجہ سے اللہ تعالی کے حضور توبہ و استغفار کرلینا چاہیے ، کوئی کفارہ وغيره لازم نہیں ہے، بس توبہ واستغفار کرلینا کافی ہے  اور آئندہ کے لیے احتیاط کریں۔

حديث شريف ميں هے:

"عن أبي ذر الغفاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله تجاوز لي عن أمتي ‌الخطأ، ‌والنسيان، وما استكرهوا عليه."

(كتاب الطلاق،باب طلاق المكره والناسي،  ج:1، ص:659، رقم حديث:6043،  ط:دار إحياء الكتب العربية)

کفایت المفتی میں مفتی کفایت اللہ دہلوی صاحب رقم طراز ہے:

"اگر غلطی سے بلاقصد و ارادے کے قرآن پاک ہاتھ سے گرجائے تو اس پر مؤاخذہ نہیں،  تاہم اس بے احتیاطی اور غفلت کی وجہ سے اللہ تعالی کے حضور توبہ و استغفار کرلینا چاہیے۔"

(کفایت المفتی، کتاب العقائد ،ج:1 ، ص:130 ، ط: دار الاشاعت)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102453
تاریخ15-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں