بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغل اور زیر ناف بالوں کو کریم سے صاف کرنے کا حکم

سوال

بغلوں اور زیرِ ناف بالوں کو کریم سے صاف کیا جائے تو بالوں کی جڑیں رہ جاتی ہیں، جو نظر آرہی ہوتی ہیں اور وہ صاف بھی نہیں ہوتی تو کیا ان کو چھوڑ دینا ٹھیک ہوگا یا غلط؟ کیوں کہ بال اکھاڑنا بہت مشکل ہوتا ہے تو کریم استعمال کی جاتی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مردوں کے لیے زیرِ ناف اور بغل کے بالوں کو  استرے/ریزر  وغیرہ سے صاف کرنا  بہتر ہے، اسی طرح   زیرِ ناف  وبغل کے بالوں کی  صفائی کے لیے   کریم  وغیرہ بھی استعمال  کرنا جائز ہے، جب کہ خواتین کے لیے کریم یا پاؤڈر وغیرہ استعمال کرنا بہتر ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله ويستحب حلق عانته) قال في الهندية ويبتدئ من تحت السرة ولو عالج بالنورة يجوز".

(کتاب الحظر والاباحۃ،406/6،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144411102417
تاریخ15-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں