بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے وسوسہ سے طلاق کاحکم

سوال

اشرف تحریر لکھ رہا تھا سگریٹ پینا چھوڑ دیا لفظ چھوڑ لکھتے ہوئے اشرف کے دل میں طلاق کا وسوسہ آ گیا اس نے فورا کہا شاہستہ میری بیوی ہے کیا اشرف کی  بیوی کو طلاق ہوگئی ؟

جواب

 واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے زبان سے لفظ طلاق یا طلاق پر دلالت کرنے والے لفظ کا زبانی یا تحریر سے ادا ہونا ضروری ہے ، محض خیالات اور  وسوسوں سے طلاق نہیں ہوتی، اس لیے اشرف کا تحریر لکھتے وقت چھوڑدیا کے لفظ سے طلاق کے وسوسے سے اشرف کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل: موسوس؛ لأنه يحدث بما في ضميره. وعن الليث: لا يجوز طلاق الموسوس".

(كتاب الجهاد ، باب المرتد ج: 4 ص: 224 ط: سعيد )

وفیہ ایضا:

"وركنه لفظ مخصوص (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية".

(کتاب الطلاق ، رکن الطلاق ج:3 ص:230ط:سعید )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102367
تاریخ14-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں