بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں سعی کرنے کا حکم

سوال

میں نے عمرہ کی نیت کر کے طواف کیا اور پھر سعی کرکے اور بال کاٹ کر احرام سے آزاد ہوگئی لیکن جب ہوٹل واپس آئی تو معلوم ہوا کہ مجھے حیض آگیا ہے ۔ میرا زیادہ گمان اسی طرف ہے کہ مجھے حیض سعی کے دوران یا اس کے بعد آیا ہے اس سے پہلے نہیں تو اس صورت میں میرے  لیے کیا حکم ہے ؟ میں احرام کی پابندیوں سے آزاد  ہوگئی؟ کو ئی دم تو واجب نہیں آیا ؟ 

جواب

واضح رہے کہ سعی کے لیے طہارت شرط نہیں ہے،صورتِ  مسئولہ میں سائلہ کا غالب گمان اگر یہ ہے کہ طواف حیض سے پہلے مکمل ہو گیا تھا،  سعی کے دوران یا اس سے فارغ ہونے کے بعد حیض شروع ہوا، تو ایسی صورت میں سائلہ کی سعی اور عمرہ صحیح ہوا،  سائلہ پر کوئی دم واجب نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن سعى جنبا أو حائضا أو نفساء فسعيه صحيح وكذا لو سعى بعدما حل وجامع وكذا بعد الأشهر كذا في السراج الوهاج."

(كتاب المناسك، الباب الثامن في الجنايات، الفصل الخامس في الطواف والسعي والرمل ورمي الجمار، ج:1، ص:247، ط:رشیدیہ)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"فإن ‌سعى جنبا أو سعت المرأة ‌حائضا أو نفساء فالسعي صحيح لأنه عبادة تؤدى في غير المسجد."

(كتاب الحج،باب الجنايات في الحج،172/1،ط:المطبعه الخيريه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102318
تاریخ14-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں