بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن کے ساتھ شرعی مسافت پر سفر کرنا

سوال

 میری بہن ایک سرکاری کام کے سلسلے میں  اپنے ایک 10 ماہ کے بچے کے ساتھ ، بیرون ملک سفر کر رہی ہیں ۔ چند وجوہات کی وجہ سے اس کے شوہر اس سفر میں ساتھ نہیں ہوں گے  ۔ کیا میں اپنی بہن کے ساتھ بیرون ملک سفر پر جا سکتی ہوں ؟

جواب

اگر عورت کا   اپنے شہر یا علاقہ سے باہر سفر کا ارادہ ہو اور اڑتالیس میل (سوا ستتر کلومیڑ) یا اس سے زیادہ مسافت  کا سفرہو تو   جب تک مردوں میں سے اپنا کوئی محرم  یا  شوہر ساتھ نہ  ہو اس وقت تک عورت کے لیےشرعاً  سفر کرنا  جائز نہیں ہے، حدیث شریف  میں  اس کی سخت ممانعت آئی ہے؛لہذا صورت مسئولہ میں آپ کے لئے اپنی بہن کے ساتھ  بغیر محرم کے بیرون ملک سفر کرنا شرعا جائز نہیں  ۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم»". (الصحیح لمسلم، 1/433، کتاب الحج، ط: قدیمی)

"حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر  کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔"

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط."

(كتاب المناسك، الباب الأول في تفسير الحج و فرضيته و وقته و شرائطه و أركانه، ج: 1، ص:216،ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102273
تاریخ14-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں