بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں وضو کے پانی کے قطرے گرانے کا حکم

سوال

مسجد میں وضو کے پانی کے قطرے  گرانے کا  عمل  کیسا ہے؟اگر مکروہ ہے تو اس کا حوالہ بتادیں؟

جواب

مسجد میں وضو کرتے ہوئے مسجد میں پانی کے قطرے  گرانا مکروہ ہے،ہاں اگر کسی شخص نے مسجد کے باہر وضو کیااور مسجد میں داخل ہونے کے بعد ہاتھ،داڑھی یا پاوں سے پانی کا کوئی قطرہ مسجد پر گرا تو یہ مکروہ نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويكره الإعطاء مطلقا، وقيل إن تخطى ،ورفع صوت بذكر إلا للمتفقهة والوضوء فيما أعد لذلك".

"(قوله والوضوء) لأن ماءه مستقذر طبعا فيجب تنزيه المسجد عنه، كما يجب تنزيهه عن المخاط والبلغم بدائع".

(كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة وما يكره فيها، فروع في المسجد، ج:1، ص:660، ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وعلى هذا الأصل ينبني أن التوضؤ في المسجد مكروه،وعند أبي حنيفة وأبي يوسف وقال محمد: لا بأس به، إذا لم يكن عليه قذر، فمحمد مر على أصله أنه طاهر، وأبو يوسف مر على أصله أنه نجس.

وأما عند أبي حنيفة فعلى رواية النجاسة لا يشكل.

وأما على رواية الطهارة؛ فلأنه مستقذر طبعا فيجب ‌تنزيه ‌المسجد ‌عنه كما يجب تنزيهه عن المخاط والبلغم".

(كتاب الطهارة، فصل في الطهارة الحقيقية،ج:1،ص:68،ط: رشيدية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102229
تاریخ13-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں