بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا لڑکی کا نام انفال رکھ سکتے ہیں؟

سوال

کیا لڑکی کا نام انفال رکھ سکتے ہیں؟

جواب

انفال ، عربی زبان کا لفظ ہے، یہ نفل کی جمع ہے، اس کے معنی : اموالِ غنیمت، ہدایا، تحائف،عطایا وغیرہ، لہذا  لڑکی کانام  انفال رکھنا جائز ہے۔

التحبیر لایضاح معانی التفسیر میں ہے:

"الأنفال لغة: العطايا من القسمة غير السهم المستحق بالقسمة، واحدها نفل بفتحتين على الأشهر".

(سورة الأنفال، ج:2، ص:148، ط: مكتبة الرشد، الرياض)

لسان العرب میں ہے:

"نفل: النفل، بالتحريك: الغنيمة والهبة؛ قال لبيد: "إن تقوى ربنا خير نفل، ... وبإذن الله ريثي والعجل" والجمع أنفال ونفال."

 (11 / 670، فصل النون، ط: دار صادر، بيروت)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102228
تاریخ13-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں