بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے ترکہ کا حکم

سوال

ایک عورت کا انتقال ہوگیا،اس کے زیورات کس کس کے درمیان تقسیم ہوں گے؟ جب کہ مرحومہ کی والدہ کا کہنا ہے، کہ میری بچی کاہے،تو میں ہی لوں گی، میں نے دیا تھا۔

جواب

 مرحومہ کی ملکیت جو سوناتھا،اب وہ مرحومہ کا ترکہ بن چکا ہے،اوراب وہ  مرحومہ کے تمام شرعی ورثاء کا حق اور حصہ ہے،لہذا والدہ کا یہ کہنا کہ  سونامیں نے دیا ہے،اب میں  ہی اس کو لوں  گی ،صحیح نہیں ہے۔

الفقہ الأسلامی وأدلتہ میں ہے:

"‌ لأن ‌الإرث ‌إنما ‌يجري ‌في ‌المتروك من ملك أو حق للمورث، لقوله عليه السلام: «من ترك مالاً أو حقاً فهو لورثته ."

(القسم الخامس: الفقه العام، الباب الأول - الحدود الشرعية، الفصل الثاني: حد القذف، المبحث الرابع ـ صفة حد القذف، ج: 7 ص: 5410 ط: دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

" لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو ‌حق ‌للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته ."

(کتاب الحدود، ج: 7 ص:57 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102218
تاریخ13-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں