بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بڑے جانورمیں پانچ آدمیوں کے قربانی کرنے کاحکم

سوال

میں اپنے گھر میں  قربانی کرنا چاہتا ہوں ، اور  اس کے لیےمیرے پاس سات حصہ کے  لیے لوگ پورے نہیں، کیا  میں ایسا کرسکتاہوں کہ  سات حصوں کے پیسے 5 حصوں میں تقسیم کردوں اور سات حصے کا گوشت بھی 5 حصے میں تقسیم کرلوں  ،یعنی 2 کے جو پیسے کم ہورہے ہیں ، وہ باقی 5 حصے والوں پر تقسیم کرلو ں اور اسی طرح گوشت بھی باقی 5 پر تقسیم کردو ں ،وہ جو دو حصے ہوں گے کسی کے نام کے نہیں ہوں گے، بس وہ زائد جس کو میں 5 حصوں پر برابر تقسیم کردوں گا؟  

جواب

جی ہاں!    بڑے جانور(گائے،اونٹ وغیرہ)میں  پانچ آدمی بھی شریک  ہوسکتے  ہیں، سات  افراد شریک ہونا  ضروری نہیں،لیکن شرط یہ ہے کہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى، والتقدير بالسبع يمنع الزيادة، و لايمنع النقصان، كذا في الخلاصة."

 ( كتاب الأضحية، الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا ج،5،ص،304،ط،رشيديه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102199
تاریخ13-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں