بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گالی اور تذلیل کے طور پر شوہر کے اس کہنے " تمہاری ماں میرے ساتھ سوتی رہی ہے" کا حکم

سوال

 بسلسلہ استفتاء نمبر 144410101896 گزارش ہے کہ مذکورہ شخص کا اپنی بیوی کے حقیقی بھائی سے یہ کہنا کہ تمہاری ماں میرے ساتھ سوتی رہی ہے، محض گالی کے طور پر اور تذلیل کی غرض سے ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا اس کلام سے نکاح پر اثر پڑتا ہے؟ نیز کیا یہ کلام موجب حد قذف ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ مذکورہ فتوی 144410101896  میں  اس کی بات کی صراحت موجود ہے کہ اگر شوہر کا کلام حقیقت پر مبنی ہو تو حکم ثابت ہوگا۔  عبارت ملاحظہ فرمائیں:

"باقی شوہر کا یہ کہناکہ ' تمہاری ماں ( یعنی اس کی ساس) میرے ساتھ سوتی رہی ہے' اگر واقعتاً  اس کی یہ بات درست ہو اور اس کے نتیجہ میں  شوہرنے شہوت کے ساتھ اپنی ساس کو چھوا ہو یا جماع کیاہو تواس کا یہ فعل کرنا  گناہ کبیرہ اور حرام تھا اوراس پر  آخرت میں سخت مواخذہ ہوگا ، او راس طرح کر نے کی وجہ سے  حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگئی ہے، اور اس پر  بیوی (ساس کی بیٹی)  ہمیشہ کےلئے حرام ہوگئی ہے۔"

لہذا سائل کے بیان کے مطابق اگر شوہر نے مذکورہ جملہ محض گالی اور تذلیل کے طورپر کہاہو تو پھر  اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں  ہوگی اور نہ ہی نکاح پر کوئی اثر پڑےگا اور نہ ہی یہ کلام موجب حد قذف ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144411102118
تاریخ12-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں