بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسواک کم سے کم کتنی مقدار ہوتو استعمال کی جائے؟

سوال

مسواک سنت کے مطابق کتنی  ہونا چاہیے ؟اور کم ہونے پر استعمال کرنا چاہیے؟

جواب

مسواک شروع  میں  ایک بالشت ہو تو بہتر ہے، بعد میں کم ہوجائے تب بھی مضائقہ نہیں، پھر جس قدر چھوٹی ہوکر استعمال کے قابل رہے ، ایک مشت  (مٹھی) تک استعمال کی جاسکتی ہے۔

الدر المختار وحاشیہ بن عابدین میں ہے:

"(قوله: وطول شبر) الظاهر أنه في ابتداء استعماله، فلا يضر نقصه بعد ذلك ‌بالقطع ‌منه لتسويته، تأمل، وهل المراد شبر المستعمل أو المعتاد؟ الظاهر الثاني لأنه محمل الإطلاق غالبا..."

(کتاب الطہارۃ،ج:1،ص :114،ط:سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"مسواک کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟

الجواب حامداً ومصلیاً:

مسواک ایک بالشت سے زائد نہ رکھی جائے،ابتداءً ایک بالشت ہوتوبہتر ہے،کم میں بھی مضائقہ نہیں،پھر جس قدر چھوٹی ہوکر استعمال کے قابل رہے استعمال کی جائے۔"

(باب الوضوء،ج:5،ص:47،ط؛جمعیۃ پبلیکیشنز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102086
تاریخ12-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں