بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوتین دن میں تمام قضا نمازیں پڑھنا

سوال

میں نے صبح کی بہت نمازیں قضا کی  ہیں، تقریباً ایک سو پچاس نمازیں  ہیں، کیا میں ان نمازوں کو دو تین دن میں پڑھ سکتا ہوں ؟

جواب

قضا نمازوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جلد سے جلد ان کو ادا کرلیں ،اس کا کوئی خاص وقت متعین نہیں ہے ،دو تین دن میں بھی تمام قضا نمازیں پڑھ سکتے ہیں ،البتہ  آداب اور سنتوں کی رعایت کرتے ہوئےنمازیں پڑھیں،جلدی جلدی میں آداب و سننن میں کمی کوتاہی نہ کریں ۔ 

وفي  الفتاوى الهندية :

"ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة، وقت طلوع الشمس، ووقت الزوال، ووقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات، كذا في البحر الرائق."

(كتاب الصلاة،الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت،1/ 121،ط:دارالفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411102066
تاریخ12-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں