بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل میں طلاق کےاقرارکاحکم

سوال

ساجد ایک وقت میں دو کام کررہا تھا، جب وہ یہ دل میں اقرار کر رہا تھا کہ ساجد تیری طلاق ہوگئی ہے، اسی وقت اس نے زبان سے کہا: یاسر نے طلاق دے دی ہے ،ساجد کو وہم تھا کہ اس کی طلاق ہوگئی ہے، کیا دیانتۃ اور قضاءساجد کی بیوی کو طلاق ہوگئی ہے؟ جبکہ ساجد کو وہم تھا اس نے زبان سے جو الفاظ بولے وہ یاسر کے لیے تھے۔

جواب

صورت میں ساجد کی بیوی کو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔وہم میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية."

(کتاب الطلاق،ركن الطلاق،٢٣٠/٣،ط:سعید)

الدرالمختار میں ہے:

"(و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عند ذكر العدد، و عند عدمه الوقوع بالصيغة."

(کتاب الطلاق،ركن الطلاق،٢٨٧/٣،ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101995
تاریخ11-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں