بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا صدقے کی نیت کرلینے سے صدقہ کرنا لازم ہوجاتا ہے؟

سوال

میرے پاس کچھ پیسے تھے،جن کے بارے میں  ثواب کے لیےصدقہ و خیرات کرنے کی نیت کی ہوئی تھی،کوئی منت وغیرہ نہیں مانی تھی،بس صرف ثواب کے حصول کے لیے  صدقہ و خیرات کرنے کی نیت تھی ،اب پوچھنا یہ ہے کہ  کیا ان پیسوں کو میں  قربانی میں استعمال کرسکتا ہوں یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں   صدقہ و خیرات کی صرف نیت کرلینے سے آپ پر ان پیسوں کو صدقہ کرنا لازم نہیں ہے،مذکورہ رقم بدستور سائل کی ملکیت میں ہے ،لہٰذاآپ ان پیسوں کو قربانی  یا اپنی مرضی سےجس جائز کام میں استعمال کرنا چاہیں استعمال کرسکتے ہیں۔  

الدر المختار میں ہے:

"ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء."

(كتاب الزكوة، 270/2، ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101842
تاریخ08-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں