بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سریہ وغیرہ کی بکنگ میں شرط لگانا

سوال

آج کل ہمارے علاقے میں لوگ ایڈوانس میں پیسے دے کر سریہ یا سیمنٹ یا اس طرح کی کوئی چیز کی بکنگ کر لیتے ہیں، مثال کے طور پر میں دوکاندار کے پاس جاتا ہو ں اور اس کو 2 لاکھ روپے دیتا ہوں اور کہتا ہو ں کہ یہ پیسے رکھ لیں، اور میری سیمنٹ کی بکنگ کر لیں اس شرط کے ساتھ کہ اگر سیمنٹ کی  قیمت کم ہوئی تو آپ مجھے آج والی قیمت نہیں بلکہ وہ کم قیمت لگائیں گے اور اگر زیادہ ہوئی تو آج کا ریٹ ہے یہی والا، اب بیشک میں سال بعد یا دو سال بعد لوں تو ریٹ آج والا ہی لگے گا، بیشک سیمنٹ مہنگا ہی کیوں نہ ہوا ہو کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سریہ یا سیمنٹ کی بکنگ اس شرط پر کرنا کہ اگر قیمت کم ہوئی تو کم قیمت پر دیں گے اور اگر قیمت زیادہ ہوئی آج کے ریٹ کے مطابق دیں گےتو اس صورت میں مذکورہ معاملہ شرعا درست نہیں ہے اس لیے کہ اس میں ثمن مجہول ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح."

(کتاب البیوع , الباب الأول فی تعریف البیع و رکنه و شرطه وحکمه و أنواعه جلد 3 ص: 3 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101827
تاریخ08-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں