بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم اور وصیت کا حکم

سوال

 عبداللہ کے تین بھائی اور ایک بہن ہیں ،تینوں بھائی  حیات ہیں جب کہ والدین اور بہن فوت ہو چکے  ہیں، عبداللہ کی ایک ہی بیوی ہے ،جس سے کوئی اولاد نہیں ہے، عبداللہ کی وفات کے بعد اس کی  جائیداد کا وارث کون ہو گا؟ کیا عبداللہ  یہ  وصیت کر سکتا ہے کہ اس کی وفات کے بعد اس کی جائیداد کا وارث صرف اس کی بیوی اور دو بھتیجے ہوں؟

جواب

صورت ِمسئولہ میں عبداللہ کے انتقال کے بعد اگر ان کے ورثاء ایک بیوی ،تین بھائی اور ایک بہن ہوں تو ان کی جائیداد مذکورہ افراد میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی ،ان کو محروم کرنے کی نیت سے کسی کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں، نیز بیوی وارث بن رہی ہے، لہذا اس کے لیے وصیت معتبر نہیں، البتہ اس کے لیے کی گئی وصیت دیگر ورثاء کی رضامندی پر موقوف ہوگی، جب کہ بھتیجے مذکورہ صورت میں وارث نہیں ہیں، اس لیے ان کے حق میں ایک تہائی تک وصیت کی جاسکتی ہے، ایک تہائی سے زائد کی وصیت کا نفاذ ورثاء کی اجازت پر موقوف رہے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان".

(کتاب الوصایا ،ج:6،ص:90،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101799
تاریخ08-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں