بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا بیٹھ کر نماز پڑھنا

سوال

کیا عورتوں کو نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہیے؟

جواب

نمازِ فرض، واجب اور سنتِ  مؤکدہ میں مرد  و عورت کے لیے  قیام کرنا فرض ہے، لہذا اگر کسی مرد یا عورت نے بغیر عذر کےان نمازوں میں  قیام کو ترک کیا تو اس پر نماز کا لوٹانا واجب ہے۔ 

فتاوی ہندیۃ میں ہے:

"(ومنها القيام) وهو فرض في صلاة الفرض والوتر. هكذا في الجوهرة النيرة والسراج الوهاج وفرضه يتأدى بأدنى ما ينطلق عليه الاسم. كذا في الكافي في آخر فصل القراءة وحد القيام أن يكون بحيث إذا مد يديه لا ينال ركبتيه".

(الفتاوي الهندية، كتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الاول في فرائض الصلاة، ج:1، ص:69، ط:رشيدية)

الدر مع الرد میں ہے:

" وترك ركن بلا قضاءوشرط بلا عذر

"(قوله: وترك ركن بلا قضاء) كما لو تركسجدة من ركعة وسلم قبل الإتيان بها، وإطلاق القضاء على ذلك مجاز (قوله: بلا عذر) أما به كعدم وجود ساتر أو مطهر للنجاسة وعدم قدرة على استقبال فلا فساد ط"

(کتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة، ج:1، ص:629، 639، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101778
تاریخ08-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں