بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جائے نماز کو بطور تکیہ استعمال کرنا

سوال

میں ایک دن اتفاق سے رات  دیر گھر آیا، سب سوئے ہوئے تھے، میرا بستر چارپائی پر  لگا ہوا تھا، لیکن تکیہ نہ تھا، تو تکیہ ڈھونڈنے کے لیے بہت کوشش کی ،مگر نہ ملا، میری نظر جائے نماز پر پڑی تو ارادہ کیا کہ آج رات جائے نماز کو تکیہ کے طور پر استعمال کرلوں  گا، کہنے کے مطابق میں نے جائے نماز کو احترام سے اپنے تکیہ والی جگہ پر رکھا اور اس پر سر رکھ کر سو گیا ، صبح جب اٹھا تو محسوس کیا رات بہت میٹھی پرسکون گزری ،مثال کے طور پر برسوں  سے بغیر بستر پر سونے والےکو جیسے اچانک صوفے والے نرم ملائم بستر پر سلایا جائے ،میں نے دوسرے دن بھی ایسا کیا، پھر سکون پایا، کچھ دنوں سے معمول بن گیا ہے، اب جائے نماز کی جگہ تکیہ رکھنے کو دل نہیں کرتا ۔

سوال  یہ ہے کیا میں جائے نماز کو معمول کے مطابق تکیہ کی جگہ استعمال کر سکتا ہوں؟

جواب

جائے نماز کو تکیہ کی جگہ استعمال کرسکتے ہیں، لیکن چوں کہ جائے نماز کا اصل مقصد ،اس پر نماز پڑھنا ہے،لہذا  اسے بطورِ تکیہ استعمال کرنے کا معمول مناسب نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

‌"وضع ‌الشيء ‌في موضعه وهو حد الحكمة، وعكسه ‌وضع ‌الشيء ‌في غير موضعه، وهو حد السفه."

(کتاب الوکالة، فصل في الوكيلان هل ينفرد أحدهما بالتصرف فيما وكلا به، ج:6، ص:34، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101762
تاریخ07-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں