بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیدائشی لنگڑے جانور کی قربانی کا حکم

سوال

پیدائشی لنگڑا کر چلنے والے بکرے کی قربانی جائز ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر جانور اتنا لنگڑا ہے کہ فقط تین پاؤں کے سہارے چلتا ہے اور چوتھا پاؤں زمین پر رکھتا ہی نہیں، یا چوتھا پاؤں زمین پر رکھتا ہے لیکن اس سے چل نہیں سکتا اور جسم کا وزن اس پاؤں پر نہیں رکھتا،یا وہ جانور لنگڑا ہونے کے سبب قربانی کی جگہ تک نہ جاسکے تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ البتہ اگر چلتے وقت زمین پر پاؤں ٹیک کر چلتا ہے اور چلنے میں اس سے سہارا لیتا ہے لیکن لنگڑا کے چلتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله والعرجاء) أي التي لا يمكنها المشي برجلها العرجاء إنما تمشي بثلاث قوائم، ‌حتى ‌لو ‌كانت ‌تضع الرابعة على الأرض وتستعين بها جاز عناية."

(‌‌كتاب الأضحية: 6/ 323، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101646
تاریخ07-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں