بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے بال کاٹنے کاحکم

سوال

عورت حائضہ کی میت کو غسل دیتے ہوۓ غیرضروری بال (بغل اور زیرناف) کے لئے کیاحکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ میت مرد کی ہو یا عورت کی انتقال کے بعد میت  زیب وزینت سے بے نیاز ہوجاتی ہے  ،لہذا  میت کے   بدن کے کسی بھی حصہ کے بال اور ناخن  کاٹنامکروہ تحریمی ہے۔

تنوير الابصار وحاشيه  ابن عابدين میں ہے :

"(ولا يسرح شعره)أي يكره تحريما (ولا يقص ظفره) إلا المكسور۔۔۔(قوله: أي يكره تحريما) لما في القنية من أن التزيين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر لا يجوز نهر".

(کتاب الصلوۃ،باب صلوۃ الجنازۃ،198/2،سعید)

البحرالرائق  میں ہے:

"(قوله: ولايسرح شعره ولحيته، ولايقص ظفره وشعره)؛ لأنها للزينة، وقد استغنى عنها، والظاهر أن هذا الصنيع لايجوز. قال في القنية: أما التزين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر لايجوز، والطيب يجوز".

(کتاب الجنائز ،187/2،دار الكتاب الإسلامی)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101639
تاریخ07-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں