بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مختلف فیہ مسئلہ میں استخارے کا حکم

سوال

کسی کام کے شرعی طور پر جواز یا عدم جواز کے حوالے سے اگر اختلافِ رائے ہو ،تو ایسے کام کو کرنے نہ کرنے کے سلسلے میں استخارہ کرنا مناسب ہے یا نہیں؟ یعنی اللہ سے یہ دعا کرنا کہ اے اللہ تو اس سلسلے میں میری راہ نمائی فرما کہ میں کس بات پر عمل کروں ، پھر طبعیت کا جس طرف رجحان ہو جائے، اس پر عمل کر لے۔

جواب

 استخارہ نام ہے کسی کام میں اللہ تعالی سے خیر طلب کرنے کا،علماء کرام کے درمیان کسی مسئلہ میں علمی اختلاف ہو تو اس  اختلاف میں صواب اور درست رائے معلوم کرنے یا غیب پر مطلع ہونے کے لیے استخارہ نہیں کیا جاتا،اور نہ ہی استخارہ کوئی شرعی حجت ہے ،جس کی بنا پر اختلافی مسئلہ میں کسی جانب  ترجیح دی جائے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا اختلافی مسئلہ میں راہ نمائی حاصل کرنے کے لیے استخارہ کرنا صحیح نہیں ہے۔

حاشیہ طحطاوی میں ہے:

"ويستخير في هل يشتري أو يكتري وهل يسافر برا أو بحرا وهل يرافق فلانا أو فلانا لأن ‌الاستخارة في الواجب والمكروه والحرام لا محل لها نهر."

( مدخل، ص: 726، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101629
تاریخ07-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں