بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی چچا سے نکاح کا حکم

سوال

رضاعی چچاکا اپنی  رضاعی بھتیجی سے  نکاح  کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ   جس طرح حقیقی بھتیجی کے ساتھ نکاح شرعاً جائز  نہیں اسی طرح رضاعی بھتیجی کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں، لہذارضاعی چچا کا اپنی رضاعی بھتیجی کے ساتھ   نکاح کرنا حرام ہے۔

تبيين الحقائق ميں ہے:

"زوج مرضعة لبنها منه أب للرضيع وابنه أخ وبنته أخت ‌وأخوه ‌عم وأخته عمة."

(کتاب الرضاع،ج:2،ص:183،المطبعۃ الکبری)

در مختار میں ہے :

"(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان."

(فتاوی شامی،باب الرضاع،ج:۳،ص:۲۱۳،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101623
تاریخ07-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں