بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواجہ سرا کی امامت کا حکم

سوال

کیا ہم خواجہ سرا کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

اگر خواجہ سرا میں مرد کی علامات غالب ہیں  تووہ مرد شمار ہوگا اور  اس کی امامت صحیح ہے اور اگراس  میں زنانہ علامتیں زیادہ ہوں یا مردانہ وزنانہ دونوں علامتیں برابر ہوں(جسے خنثی مشکل کہتے ہیں ) تو اس کا مردوں کے لیے امام بننا صحیح نہیں، البتہ اس کے پیچھے عورتوں کی نماز ہوجائے گی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"والخنثى البالغ تصح إمامته للأنثى مطلقا فقط لا لرجل ولا لمثله لاحتمال أنوثته وذكورة المقتدي، ويصح اقتداؤه بالرجل لا بمثله، ولا بأنثى مطلقا لاحتمال ذكورته."

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، جلد:1، صفحہ: 577،، طبع: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101593
تاریخ06-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں