بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مال کو مسجد کے لیے دینے کی نیت کرنے کے بعد کسی فقیر کو دینے کی نیت کرنے کا حکم

سوال

میرے ایک عزیز ہیں، جنہوں نے اپنی پینشن کی رقم کے بارے میں یہ نیت کر رکھی تھی کہ جب یہ رقم آئیگی تو میں اس رقم کو مسجد کی تعمیر کے لیے دوں گا، اس کے بعد وہ رقم آئی نہیں تھی کہ ان کے پاس ان کے ایک قریبی آئے جو بے روزگار ہے، سخت علیل ہے، اور بہت ضرورت مند مستحقِ زکاۃ بھی ہے، تو کیا میرے عزیز اس رقم کی جگہ اپنے اس ضرورت مند متعلق کو دے سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کی دونوں نیتیں نفلی صدقہ کی ہی ہیں، لہذا یہ شخص اپنے مملوکہ مال کو دونوں جگہوں میں سے جہاں چاہےخرچ کرسکتا ہے، البتہ دونوں میں فرق  یہ ہے کہ مسجد کا مصرف صدقہ جاریہ  ہے، جب کہ دوسرا مصرف عام صدقہ کا ہے۔

مجلۃ الاَحکام العدلیۃ میں ہے:

"كل يتصرف في ملكه كيف ما شاء."

( الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك، ٣ / ٢٠١، ط: دار الجيل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101570
تاریخ06-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں