بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیکٹری ملازم کے لیے باہر سے مال خریدنے میں کمیشن رکھنے کاحکم

سوال

فیکٹری میں ملازمت کرتے وقت جب کوئی سامان باہر سے خریدنا پڑے تو اس میں سے کمیشن رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

جب ایک شخص کسی کمپنی یا ادارے میں ملازم ہو،اور  وہ ادارے  والے اس شخص کو تنخواہ دے رہے ہو، پھر کبھی ضرورت   کے وقت باہر سے بھی سامان  لاناپڑے ،تو  اس صورت میں یہ شخص اس میں سے اپنے لیے کمیشن نہیں رکھ سکتا؛ کیوں کہ یہ کمپنی کا ملازم ہے ،اور تنخواہ بھی لیتاہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية  قوله (فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له ."

( کتاب البیوع ج: 4،ص : 560 ، ط : دار الفکر بیروت )

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101553
تاریخ06-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں