بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نائی کو اجتماعی قربانی میں شریک کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ ایک نائی ہے جس کے پاس ستر فیصد لوگ غیر شرعی بال اور داڑھی کٹانے  آتے ہیں۔ تو کیا ایسے آدمی کو قربانی میں شریک کرنا جائز ہے ؟ اور اس کا کوئی اور ذریعہ آمدنی بھی نہیں ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ نائی کی اکثر آمدنی  حرام ہو، تو اس صورت میں اسے قربانی میں شریک کرنا جائز نہ ہوگا، البتہ  اگر وہ  اپنی تیس فیصد حلال کمائی سے قربانی کے جانور میں شریک ہوتا ہے، تو اسے شریک کرنا جائز ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع."

(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ٥ / ٣٤٣، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101548
تاریخ06-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں