بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید کے دن اشراق اور چاشت کے نوافل پڑھنا

سوال

 عرض ہے کہ سنا یہ ہے کہ عید کے دن اشراق کی نماز نہیں پڑھنی چاہیے تو کیا عید کے دن نماز چاشت بھی نہیں پڑھنی چاہیے؟ رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

عید کے دن فجر کی نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد سے عید کی نماز ادا کرنے تک نفل نماز ادا کرنا مطلقاً (عیدگاہ ہو یا گھر یا کوئی اور جگہ) مکروہِ (تحریمی) ہے، اور عید کی نماز کے بعد سے اس دن کے زوال تک صرف عیدگاہ میں نفل نماز ادا کرنا مکروہ ہے، جب کہ  عید کی نماز کے بعد گھر میں نفل نماز ادا کرنا جائز ہے، لہذا عید کی نماز کے بعد گھر آکر اشراق اور چاشت کے نوافل پڑھنا جائز ہے۔

"طحطاوی علی الدر المختار" میں ہے:

"ولايتنفل قبلها مطلقاً ... و كذا لايتنفل بعدها في مصلاه؛ فإنه مكروه عند العامة، و إن تنفل بعدها في البيت جاز ... قوله: (فإنه مكروه) أي تحريماً علی الظاهر..."الخ

(كتاب الصلاة، باب العيدين، ١/ ٣٥٣، ط: رشيدية)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101466
تاریخ05-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں