بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر کی قضاء میں ہاتھ اٹھانے کا حکم

سوال

وتر کی قضااگر دن میں ادا کر رہے ہوں تو کیا تیسری رکعت میں بغیر ہاتھ اٹھائے تکبیر کہہ کر دعائے قنوت پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی تکبیر کہتے وقت ہاتھ کا اٹھاناسنت ہے،اس لیے  اگر وتر کی قضاء عام مجمع میں نہ کی جارہی ہو تو سنت پر حتی الامکان عمل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھانے چاہییں،لیکن اگر وتر کی قضاء عام مجمع میں کی جارہی ہو،اور وہ وتر کا وقت بھی نہ ہو تواس وقت ہاتھ نہ اٹھانا ہی بہتر ہے تاکہ لوگوں پر اس کی کوتاہی ظاہر نہ ہو۔

"رد المحتار على الدر المختار"میں ہے:

"قوله رافعا يديه: أي سنة إلى حذاء أذنيه كتكبيرة الإحرام، وهذا كما في الإمداد عن مجمع الروايات لو في الوقت، ‌أما ‌في ‌القضاء ‌عند ‌الناس فلا يرفع حتى لا يطلع أحد على تقصيره."

(ص:٦،ج:٢،کتاب  الصلاة،باب الوتر والنوافل،ط:ایج ایم سعید)

"حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح"میں ہے:

"وإذا فرغ من قراءة السورة فيها أي الركعة الثالثة رفع يديه حذاء أذنيه كما قدمناه إلا إذا قضاه حتى لا يرى تهاونه فيه برفعه يديه عند من يراه.

قوله: إلا إذا قضاه: أي عند الناس بدليل ما بعده، قوله: برفعه:متعلق بيرى، قوله: عند من يراه أي سواء كان في مسجد أم في غيره وإذا لم يكن أحد عنده يرفع."

(ص:٣٧٥،کتاب الصلاة،‌‌باب الوتر وأحكامه،ط:دار الکتب العلمیة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101384
تاریخ05-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں