بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک کروڑ کی تقسیم

سوال

ایک آدمی ہے،جس کا انتقال ہوگیا ہےاور ورثےمیں ایک گھر چھوڑا ہے، جس کی مالیت ایک کروڑ بنتی ہے اور اس کےدو بیٹے اور ایک بیٹی ہے،   تو اب یہ میراث ان کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟ اور کتنا کتناحصہ ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں میت کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد،اگر میت پر کوئی قرضہ ہو تو اس کوکل  مال سے منہا کرنے کے بعد،اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو اس کوایک تہائی مال سے نافذ کرنے کے بعد،کل  ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 5حصوں میں تقسیم کرکے،2،2 حصے ہر ایک بیٹے  کو،اور ایک  حصہ بیٹی کو  ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے :

مسئلہ:5

بیٹابیٹابیٹی 
221

یعنی ایک کروڑ میں سے  ہر ایک بیٹے کو چالیس لاکھ ،اور بیٹی کو بیس لاکھ روپے ملیں گے ۔

نوٹ :یہ تقسیم اس وقت ہے جب مرحوم کے بیٹوں اور بیٹی کے علاوہ کوئی دوسرا وارث نہ ہو، اگر میت کے والدین یا بیوی موجود ہو تو جواب مختلف ہوگا، ورثا کی مکمل تعداد لکھ کر دوبارہ  سوال ارسال فرمائیں۔

فقط واللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101268
تاریخ03-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں