بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انابیہ نام رکھنے کا حکم

سوال

میں نے اپنی بیٹی کا نام انابیہ رکھا ہے، اس کے معنی کیا ہیں؟اور یہ نام رکھنا اچھا ہے یا نہیں؟

جواب

 مشک یااس کےقریب قریب جوخوشبو ہو،اس کواَناب کہتےہیں؛لہذا"انابیہ "کامعنی ہوگا:مشک والی لڑکی /خاتون،معنی کےلحاظ سےیہ نام رکھنادرست ہے،شرعاًیہ نام رکھنےمیں کوئی قباحت نہیں،تاہم بہتریہ ہےکہ لڑکی کانام صحابیات یانیک خواتین کےنام پررکھاجائے۔

تاج العروس میں ہے:

"(والأَنَابُ كَسَحَاب: المسك) . عن أبي زيد. (أو عطر يضاهيه) ، عن ابن الأعرابي، وأنشد أبو زيد:تعل بالعنبر {والأناب كرما تدل من ذرا الأعناب يعني جارية تعل شعرها} بالأناب. وفي الأساس تقول: (بلد عبق الجناب، كأنه ضمخ بالأناب) أي المسك، وأصبحت {مؤتنبا، (وهو} مؤتنب) بصيغة اسم الفاعل، أي (يشتهي الطعام)."

(فصل الهمزة مع الباء،2/32،ط:دارالھدایة)

المعجم الوسیط میں ہے:

''الأَناب: المسک أو عطر یشبهه.''

(باب الهمزة،٢٨/١،ط:دارالدعوة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101171
تاریخ01-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں