بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجارہ اور بیع کو ایک ہی عقد میں جمع کرنا

سوال

 میرا ایک پلاٹ ہے، ایک دوست سے تعمیر کرنے کا کہا ہے، طریقہ یہ طے کر رہے ہیں، کہ اس تعمیر کو 24 حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصہ کا میں ماہانہ کرایہ 500 روپے ادا کرو ں گا ،اور اس دوران ماہانہ ایک ایک حصہ میں خریدوں گا، فی حصہ کی قیمت 30 ہزار روپے طے ہے، جتنے حصے میری ملکیت میں آئیں گے، اس کا کرایہ کم ہوتا جائیگا، رہنمائی فرمائے کہ اس طرح معاملہ مناسب ہے یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ  میں ایک ہی عقد میں اجارۃ اور بیع  کا معاملہ  کرنے کی وجہ سے اس طرح کا معاملہ کرنا جائز نہیں ہے۔

معجم للطبرانی میں ہے:

"1610۔وبه: قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تحل ‌صفقتان ‌في ‌صفقة»."

(باب الألف، من اسمه أحمد، ج: 2 ص: 169 ط: دار الحرمین)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101166
تاریخ01-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں