بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مصلی کا کنارہ ناپاک ہونے کی صورت میں اس پر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

 اگر کسی جائے نماز(مصلی) کا ایک کنارہ ناپاک ہو تو اس جائے نماز پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

نماز کے درست ہونے کے لیے دونوں پاؤں ،ہاتھ، گھٹنے اور پیشانی کی جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے،لہذااگر  مصلی (جائے نماز)کا ایک کنارہ ناپاک ہو تو وہ کنارہ چھوڑ کر دوسری حصے میں نماز پڑھنے سے نماز درست ہو جائے گی۔

البحرالرائق میں ہے:

"ولو صلى على بساط وعلى طرف منه نجاسة فالأصح أنه يجوز كبيرا كان أو صغيرا؛ لأنه بمنزلة الأرض فلا يصير مستعملا للنجاسة وهو بالطريق الأولى؛ لأن النجاسة إذا كانت لا تمنع في موضع الركبتين واليدين فههنا أولى۔۔۔وتحته في منحة الخالق:ونقل شارحها الشيخ إبراهيم الحلبي عبارة الخانية السابقة ثم قال فعلم أنه لا فرق بين الركبتين واليدين وبين موضع السجود والقدمين وهو الصحيح؛ لأن اتصال العضو بالنجاسة بمنزلة حملها وإن كان وضع ذلك العضو ليس بفرض. "

(كتاب الصلوة ،باب شروط الصلوة ،ج1، ص:282،ط:دار الكتاب)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101146
تاریخ01-06-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں