بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومت کے لگائے ہوئے درخت سے مسواک توڑنا

سوال

ہمارے گاؤں کےقریب ایک نہر بہتی  ہے،اس کے دونوں طرف محکمہ نہر والوں نے درخت لگائے ہوئے ہیں ،گویاکہ  چھوٹا سا جنگل ہے ،کیا اس سے مسواک توڑکر کی جا سکتی ہے؟ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عرف یہی ہےکہ محض مسواک کےلیےکچھ شاخ وغیرہ لینےکو منع نہیں کیاجاتاہے،یہ درخت کاٹنےکے حکم میں نہیں ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإذا غرس شجراً في طريق العامة فالحكم أن الشجر للغارس، وإذا غرس شجراً على شط نهر العامة أو على شط حوض القرية فهو للغارس، كذا في الظهيرية و لو قطعها فنبتت من عروقها أشجار فهي للغارس، كذا في فتح القدير."

(كتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض، ج:2، ص:474، ط: دار الفكر بيروت)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"لأي أحد كان أن يقطف فاكهة الأشجار التي في الجبال المباحة وفي الأودية والمراعي التي لا صاحب لها."

(كتاب الشركات، الباب الرابع: في بيان شركة الإباحة، الفصل الرابع: في بيان حق الشرب والشفة، المادة:(1259)، ص:242، ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا يجوز التصرف ‌في ‌ملك ‌الغير بغير إذنه".

(كتاب النكاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، ج:2 / ص:234، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101029
تاریخ31-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں