بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسے جانور کی قربانی جس کی زبان بیچ سےچیری ہوئی ہو

سوال

ایسے جانور کی قربانی جس کی زبان بیچ سےچیری ہوئی ہو، مسئلے کا جواب  صریح جزئیہ کے ساتھ ہو۔

جواب

واضح رہے کہ جس جانور کی زبان کٹی ہوئی ہو یا چیری ہوئی ہو جس کی وجہ سے وہ چارہ گھاس وغیرہ نہ کھاسکے  تو اس جانور کی قربانی درست نہیں اور اگر گھاس وغیرہ کھا سکتا  ہے تو جائز ہے۔

فتوی عالمگیری میں ہے:

"وفي اليتيمة: كتبت إلى أبي الحسن علي المرغيناني، ولو كانت الشاة مقطوعة اللسان هل تجوز التضحية بها؟ . فقال: نعم إن كان لا يخل بالاعتلاف، وإن كان يخل به لا تجوز التضحية بها، كذا في التتارخانية."

(كتاب الأضحية،الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب،ج:5،ص:298،ط:دار الفكر بيروت)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411101000
تاریخ30-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں