بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1448ھ 07 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کا پیتل کی انگوٹھی پہن کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

عورت کے لئے پیتل کی انگوٹھی کے عدم جواز کی صورت میں نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ پیتل کی انگوٹھی پہننا عورتوں کے لیے جائز نہیں، کیوں کہ عورتوں کے لیے سونا، چاندی کی انگوٹھی  پہننا جائز ہے ، اس کے علاوہ عورتوں کے لیے کسی قسم کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں،  البتہ ممنوع انگوٹھی میں جو نماز پڑھ لی ہے اس کے اعادے  کی ضرورت نہیں، البتہ آئندہ سونے، چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی انگوٹھی  نہ پہنے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وروى صاحب السنن بإسناده إلى عبد الله بن بريدة عن أبيه أن رجلاً جاء إلى النبي وعليه خاتم من شبه، فقال له: ما لي أجد منك ريح الأصنام! فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد، فقال: مالي أجد عليك حلية أهل النار! فطرحه، فقال: يا رسول الله من أي شيء ؟أتخذه قال: اتخذه من ورق ولاتتمه مثقالاً. فعلم أن التختم بالذهب والحديد والصفر حرام، فألحق اليشب بذلك؛ لأنه قد يتخذ منه الأصنام، فأشبه الشبه الذي هو منصوص معلوم بالنص."

(‌‌‌‌كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس، ج:6، ص:359، ط:سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولايتختم) إلا بالفضة؛ لحصول الاستغناء بها فيحرم (بغيرها كحجر) وصحح السرخسي (وذهب وحديد وصفر) ورصاص وزجاج وغيرها؛ لما مر."

"(قوله: فيحرم بغيرها إلخ)؛ وفي الجوهرة: والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء."

(‌‌‌‌كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس، ج:6، ص:359، ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100990
تاریخ30-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں