کیا بینک کو اپنا گھر یا پلاٹ کرائے کے لیے دیا جاسکتا ہے؟
سوال
کیا بینک کو اپنا گھر یا پلاٹ کرائے کے لیے دیا جاسکتا ہے؟
جواب
بینک ایک سودی ادارہ ہے جو سودی لین دین کرتا ہے، لہٰذاایسے ادارے کے لیے اپنی جگہ کو کرائے پر دینا گناہ پر معاونت کے زمرے میں آئے گا، جو کہ ناجائز ہےاور اس کی آمدنی بھی مکروہ ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ." (المائدة: 2)
ترجمہ: ’’اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ سے ڈرا کرو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والے ہیں۔‘‘ (بیان القرآن)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"{ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."
(سورة النساء، مطلب البيان من الله تعالى على وجهين، ج: 2، ص: 381، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

