بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بکرے کی نذر مان کر مرغی ذبح کرنے کا حکم

سوال

اگر کسی نے یہ نذر مانی کہ اگر میں سورۃ  یٰس ختم کرو ں تو بکرا ذبح کروں گا ،اب اگر کوئی چیز اس کے علاوہ مثلاً مرغی ذبح کی تو کیا نذر پوری ہو گئی؟

جواب

اگر کسی نے نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں بکرا ذبح کروں گا تو اس کو اختیار ہے چاہے تو بکرا ذبح کرے،یا بکرے کی قیمت صدقہ کرے یا اس کی قیمت کے برابر کوئی اور چیز صدقہ کر دے ، بکرے کی جگہ مرغی ذبح کرنے سے نذر پوری نہ ہو گی۔

حاشية ابن عابدين" ميں ہے:

"نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة كتصدقه بثمنه."

(كتاب الايمان،ج:3 ،ص:741،ط :سعيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144411100954
تاریخ30-05-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں